ابنا: تہران کے خطيب نماز عيد آيت اللہ امامي کاشاني نے نماز کے خطبوں ميں نمازيوں اور اسي طرح پوري دنيا کے مسلمانوں کو عيدالاضحي کي مبارکباد پيش کرتے ہوئے عيد قربان يا عيدالاضحي کے فلسفہ وجودي پر بھرپور روشني ڈالي انہوں نے کہا کہ يہ عيد پيغمبر خدا حضرت ابراہيم خليل اللہ کي قرباني اور اللہ کے حضور ان کے ايثار کي ياد دلاتي ہے آيت اللہ امامي کاشاني نے کہا کہ يہ عيد پوري تاريخ ميں انسانوں کو يہ بات ياد دلاتي رہتي ہے کہ اللہ کي راہ ميں اس کے مخلص بندے کس طرح سے امتحان ديتے ہيں اور پھر سرخروئي کے ساتھ اس ميں کاميابي حاصل کرتے ہيں -
آيت اللہ امامي کاشاني نے کہا کہ عيد قربان ہر سال ہميں اس بات پرجھنجھوڑتي ہے کہ اللہ کي طرف سے ڈالے گئے امتحان کے لئے ہميں تيار رہنا چاہئے اور اس کي راہ ميں جو بھي قرباني دينا پڑے اس سے گريز نہيں کرنا چاہئے - تہران کے خطيب نماز عيد قربان آيت اللہ امامي کاشاني نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ سبھي توحيدي اديان ميں انسانوں کو اللہ کي طرف سے امتحانات و آزمائشوں ميں مبتلاکئے جانے کي طرف اشارہ کيا گيا ہے کہاکہ نعمتوں کے مقام پر امتحان دينا مصيبتوں کے وقت ميں امتحان دينے سے کہيں زيادہ سخت و دشوار ہے آيت اللہ امامي کاشاني نے کہا کہ نعمتوں کے موقع پر امتحان ميں سرخروئي حاصل کرنا مقام شکر ہے اور مصائب و آلام کے درميان امتحان دينا مقام صبر ہے -
انہوں نے حضرت علي عليہ السلام کي اس حديث کي طرف اشارہ کيا کہ جس ميں آپ کا ارشاد ہے کہ دنيا امتحان کے بغير باقي نہيں رہ سکتي سنت الہي يہي ہے کہ انسان زندگي بسر کرے اور اپنے اندر و باطن کي خوبصورتي اور کمالات کا مظاہرہ کرے -
آيت اللہ امامي کاشاني نے کہا کہ امتحانات انساني صلاحيتوں اور استعداد کو اجاگر کرتے ہيں -
تہران کے خطيب نماز عيد آيت اللہ امامي کاشاني نے کہا کہ جناب ابراہيم نے ثابت کرديا کہ ايک انسان کتنا عظيم بن سکتا ہے اور خود کو اللہ سے کس قدر قريب کرسکتا ہے انہوں نے کہا کہ امتحان خلقت کاراز ہے اور ہم سب خواہ نعمتوں سے سرشار ہوں يا مصائب و آلام ميں گرفتار ہوں امتحان کے مرحلے ميں ہيں - آيت اللہ امامي کاشاني نے کہا جواني کي نعمت يہ نہيں ہے کہ نوجوان شہوتراني ميں مصروف رہے بلکہ نوجواني اور جواني کي نعمت کو علم اور انساني اقدار کي راہ ميں استعمال کرنا چاہئے - تہران کے خطيب نماز عيد قربان آيت اللہ امامي کاشاني نے نماز کے دوسرے خطبے ميں کہاکہ دشمن يہ نہ سمجھے کہ وہ ہمارے ملک اپني پابنديوں کے ذريعے گھٹنے ٹيکنے پر مجبور کردےگا - آيت اللہ امامي کاشاني نے کہا کہ اس وقت اگرچہ ہمارے ملک کو مہنگائي اور کسي حدتک معاشي مشکلات کا سامنا ہےمگر يہ سارے مسائل حکام کي دور انديشي اور بہترين تدبيروں سے حل ہوجائيں گے اور ہم اپني دولت اور اپنے ملک کے نوجوانوں کي صلاحيتوں کے ذريعے ان تمام تر پابنديوں کو ناکام بناديں گے -
آيت اللہ امامي کاشاني نے کہا کہ ملک کےحکام کو خواہ وہ جس پوسٹ يا مرتبے پر ہوں چاہئے کہ ملک کے مسائل خاص طور پر اقتصادي مسائل کا جائزہ لے کر ان کو فوري طور پر حل کريں پابنديوں کو جتني جلدي ہوسکے ہميشہ کي طرح اس بار بھي ناکام بنائيں - انہوں نے کہا کہ اقتصادي مسائل ميں ضروري ہے کہ قائد انقلاب اسلامي کے فرمودات کو پيش نظر رکھا جائے جس ميں آپ نے فرمايا کہ سرمايہ کاري اور کام پر زيادہ توجہ ديں انہوں نے کہا کہ البتہ يہ سب تقوا اور تدين سے ہي حاصل ہوگا اور اس کے لئے ضروري ہے کہ حکام کو ان مسائل کو حل کرنے کے لئے ضروري معلومات بھي ہوں - آيت اللہ امامي کاشاني نے کہا کہ اقتصادي مشکلات کو برطرف کرنے کے لئے ايک اور چيز جو ضروري ہے وہ يہ کہ سب ايک پليٹ فارم پر کھڑے ہوں اور سب آپس ميں متحد ہوں اسي صورت ميں عوام کے مسائل کو دور اور برطرف کيا جاسکتا ہے -
آيت اللہ امامي کاشاني نے کہا کہ دشمنوں کے مقابلےميں امت اسلاميہ کا اتحاد و يکجہتي عالمي کفر کا خاتمہ کرسکتا ہے انہوں نے کہا کہ ايک ايسي دنيا ميں جہاں پيغمبر اسلام کي عظيم الشان شخصيت کي توہين کرکے نبي مکرم کے مقام و مرتبے کو گھٹانے کي بات کي جاتي ہو وہاں ضروري ہے کہ عالم اسلام ، دين مبين اسلام اور خاندان وحي و رسالت اور ناموس نبوت کي حمايت و پاسداري کے لئے اٹھ کھڑا ہو - انہوں نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت سب کا شرعي فريضہ ہے انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر اتحاد و حدت کے ذريعے عالم اسلام کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کي ضرورت ہے -
تہران کے خطيب نماز عيد قربان نے اسي طرح دشمنوں کي سازشوں کےمقابلے ميں ہوشيار رہنے کي نصحيت کرتے ہوئے کہا کہ آج بين الاقوامي سطح پر ايران کے نظام اور اس کے اقتدار کو سب تسليم کرنے پر مجبورہيں انہوں نے کہا کہ ايران کے اسلامي نظام کو يہ سرافرازي اور سربلندي شہداء کے خون کي بدولت حاصل ہوئي ہے بنابريں اسلامي نظام کي قدروں کي بھي پاسداري کرنے سے ذرہ برابر بھي تساہلي سے کام نہيں لينا چاہئے - تہران کے خطيب نماز عيد قربان نے اسي طرح حجاج کرام کے نام قائد انقلاب اسلامي کے پيغام کي طرف بھي اشارہ کيا اور کہا کہ شام اور بحرين ميں امريکا اور اسرائيل براہ راست داخل نہيں ہوئے ہيں بلکہ انہوں نے فريب خوردہ عناصر کي مدد سے وہاں کے حالات کو خراب کيا ہے.
.......
/169